پاکستان تیل و گیس ادارے کے پی او جی سی ایل کی سی آر آئی گروپ کی اینٹی-برائبری سرٹیفکیشن میں شمولیت | Pakistan News Digest

Don't miss

پاکستان تیل و گیس ادارے کے پی او جی سی ایل کی سی آر آئی گروپ کی اینٹی-برائبری سرٹیفکیشن میں شمولیت

تلاش و پیداوار کے ابھرتے ہوئے صوبائی ادارے نے آئی ایس او 37001:2016 اے بی ایم ایس اسٹینڈرڈ کے لیے دستخظ کردیے

لندن، 5 فروری 2018ء/پی آرنیوزوائر/– کارپوریٹ ریسرچ اینڈ انویسٹی گیشنز پرائیوٹ لمیٹڈ (سی آر آئی گروپ) نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں تیل و گیس کی پیداوار کا ادارہ کے پی او جی سی ایل آئی ایس او 37001 اینٹی-برائبری مینجمنٹ سسٹم اسٹینڈر سند حاصل کرنے کے لیے اس کی سی آر آئی سرٹیفکیشن سروسز میں شامل ہو چکا ہے۔https://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/0_2as0f0d4/def_height/400/def_width/400/version/100012/type/1

https://mma.prnewswire.com/media/431851/Corporate_Research_and_Investigations_Logo.jpg

لندن میں قائم سی آر آئی گروپ دیانت میں مطلوبہ احتیاط، ملازمت میں پس منظر کی جانچ، تھرڈ پارٹی خطرے کے انتظام اور تکمیل اور دیگر پیشہ ورانہ تفتیشی تحقیقی خدمات پیش کرنے والا عالمی ادارہ ہے۔ 2016ء میں ادارے نے 3پی آر ایم-سرٹیفائیڈ اور 3پی آر ایم-کوالیفائیڈ سمیت پروگراموں میں سی آر آئی سرٹیفکیشن اور ماہرین کی تربیت فراہم کرنے کے لیے اپنا اینٹی-برائبری اینڈ اینٹی کرپشن سینٹر فار ایکسی لینس (ABAC®CoE) جاری کیا۔

کے پی او جی سی ایل خیبر پختونخوا پاکستان میں صوبائی ہولڈنگ کمپنی ہے جو 2013ء میں قائم کی گئی تھی تاکہ صوبے میں مقامی وسائل کی دریافت کرکے خیبر پختونخوا کو خود کفیل  بنائے۔ رضی الدین رضی، سی ای او کے پی او جی سی ایل، نے کہا کہ آئی ایس او 37001:2016 اے بی ایم ایس سرٹیفکیشن میں شمولیت ادارے کو “اپنے شراکت داروں اور حصص یافتگان کو مکمل اعتماد” فراہم کرنے میں مدد دے گی، دوسرے معنوں میں حکومت خیبر پختونخوا، پاکستان کو”۔

رضی نے کہا کہ کے پی او جی سی ایل “عوام کی سہولت اور اپنے حصص یافتگان کے لیے کارآمد خفیہ خزانوں کی مسلسل تلاش میں ہے۔ اس نے بین الاقوامی اور قومی اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے در وا کیے ہیں کیونکہ یہ ایک با اختیار اور راست گو ادارے کی حیثیت سے کاروباری برادری میں بہت اچھی ساکھ رکھتا ہے۔”

“کے پی او جی سی ایل کے بذریعہ کراچی اسٹاک ایکسچینج اور اے آئی ایم لندن اسٹاک ایکسچینج تک کے سفر کو آئی ایس او 37001 جیسے سنگ ہائے میل کی ضرورت ہوگی۔” رضی نے کہا۔ “سرمایہ کار اور کاروباری شراکت دار ہماری اہلیت اور فوقیت پر مکمل بھروسہ کر سکتے ہیں اور آئی ایس او 37001 ہماری ان خصوصیات کی تصدیق کرے گا۔”

آئی ایس او 37001:2016 سرٹیفکیشن

حال ہی میں قائم کردہ آئی ایس او 37001 معیار عالمی ادارے کو انسداد رشوت ستانی کے انتظام کا نظام لاگو کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ معیار مختلف اقدامات کے سلسلے کی صراحت کرتا ہے جو کسی ادارے کو رشوت ستانی سے تحفظ، سراغ اور نمٹنے کے لیے درکار ہوتے ہیں اور اس کے نفاذ کے لیے متعلقہ رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

ظفر انجم، گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر سی آر آئی گروپ نے کہا کہ آئی ایس او 37001:2016 سرٹیفکیشن داخلی انسداد رشوت ستانی و انسداد بدعنوانی نظاموں کے قیام، نفاذ، برقرار رکھنے اور بہتر بنانے میں مدد کے لیے تیار کی گئی ہے۔

“ہماری نظریں کے پی او جی سی ایل کے ساتھ کام کرنے اور اسے اپنے اہداف کے حصول اور اخلاقی اداروں کی اعلیٰ ترین سطح پر تسلیم کیے جانے میں مدد دینے پر مرکوز ہیں۔” انجم نے کہا۔ “یہ بہت اہم ہے کہ آئی ایس او 37001:2016 معیارات دنیا بھر میں 160 سے زیادہ ممالک میں تسلیم اور استعمال کیے جاتے ہیں۔”

سی آر آئی سرٹیفکیشن کے پڑتال گر اور تجزیہ کار اقدامات اٹھاتے ہیں جو موجودہ انتظامی عمل اور اختیارات کے ساتھ مکمل ہوتے ہیں، اور ان میں شامل ہیں:

  • ایک انسداد رشوت ستانی پالیسی تسلیم کرنا
  • انتظامیہ کی جانب سے خریداری اور قیادت کا استحکام
  • تکمیل احکامات کی نگرانی کے ذمہ دار افراد کی تربیت
  • تمام اہلکاروں اور کاروباری ساتھیوں کو پالیسی اور پروگرام کی ترسیل
  • رشوت ستانی اور بدعنوانی کے خطرے کے تعین کی فراہمی
  • منصوبوں ، کاروباری ساتھیوں اور دیگر ملحقہ تیسرے فریقوں کو مطلوبہ احتیاط میں رہنمائی دینا
  • مالیاتی و تجارتی ضابطوں کا نفاذ
  • خبر گیری اور تفتیش کے عمل کی تیاری

“رشوت ستانی مقامی مارکیٹوں اور عالمی کاروباری سرگرمیوں دونوں میں ایک کلیدی مسئلہ ہے،” انجم نے کہا۔ “کاروباری عمل کو پھیلانے اور تجارتی فوائد کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی خواہش کو نہ صرف کام کے دوران خطرات کو شناخت کرنے اور سنبھالنے کی بلکہ رشوت ستانی کے خطروں کا کھوج لگانے اور اسے کم کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا کی گورننگ اداروں کے بدعنوانی، رشوت ستانی وار دیگر غیر اخلاقی کاروباری حرکات سے تحفظ کے لیے زیادہ سخت معیارات اور کوششوں کی جانب جھکاؤ کے ساتھ ہم اداروں کو ان معیارات تک پہنچنے اور پورا اترنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔”

سی آر آئی گروپ کے بارے میں

گزشتہ 28 سالوں میں سی آر آئی گروپ ادارہ جاتی تفتیش اور خطرات سے نمٹنے میں ایک عالمی رہنما کی حیثیت سے ابھرا، جو یورپ، ایشیا بحر الکاہل، جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، شمالی و جنوبی امریکا میں نامور صارفین کے لیے خدمات دے رہا ہے۔ سی آر آئی گروپ قانونی تکمیل، مالیاتی نتیجہ خیزی اور بیرونی شراکت داروں، رسد کنندگان اور کسی انجمن سے منسلک ہونے کے خواہشمند صارفین کے لیے تکمیل کے درجات  قائم کرکے کاروباروں کو تحفظ دیتا ہے۔

اینٹی-برائبری اینڈ اینٹی-کرپشن سینٹر آف ایکسی لینس سی آر آئی گروپ کے ایک آزاد شعبے کی حیثیت سے قائم کیا گیا تھا تاکہ انسداد بدعنوانی، مطلوبہ احتیاط کے عمل اور عالمی تیسرے فریق سے تعلق کی پیروی اور برقرار رکھنے کے لیے ضروری عوامل کے بہترین جدید اقدامات کو تعمیر کرکے تکمیل احکام کے موجودہ ڈھانچوں کی توثیق یا انہیں پھیلانے کے خواہشمند اداروں کو تربیت و استناد فراہم کر ے۔

رابطہ سی آر آئی گروپ

ظفر انجم، ایم ایس سی، ایم ایس، سی ایف ای، سی آئی آئي، ایم آئی سی اے، انٹرنیشنل ڈپلوما (فائنانشل کرائم)

گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر

کارپوریٹ ریسرچ اینڈ انوسٹی گیشنز ایل ایل سی

917-918، لبرٹی ہاؤس، ڈی آئی ایف سی

دبئی، متحدہ عرب امارات
دفتر: 3589884 4 971+
سیل: 9038184 50 971+
ای میل: zanjum@CRIGroup.com

لوگو –https://mma.prnewswire.com/media/431851/Corporate_Research_and_Investigations_Logo.jpg

 

   

Related Posts

   

You must be logged in to post a comment Login