گوانگژو نے سائنسی و تکنیکی جدت طرازی میں ترقی دکھانے کی کوششیں تیز کردیں | Pakistan News Digest

گوانگژو نے سائنسی و تکنیکی جدت طرازی میں ترقی دکھانے کی کوششیں تیز کردیں

By on June 7, 2017 | Short URL

گوانگژو، چین، 7 جون 2017ء / سنہوا-ایشیانیٹ/– 2017 چین انوویشن اینڈ اینٹری پرینیؤرشپ فیئر (سی آئی ای ایف) 27 مئی کو گوانگژو میں اختتام پذیر ہوئی۔ عالمی شہرت یافتہ کنٹون فیئر کے علاوہ یہ گوانگژو میں ہونے والی ایک اور بین قومی نمائش ہے اور رواں سال آغاز سے گوانگژو ہی میں مستقل طور منعقد ہوتی رہے گی۔

گوانگژو ایسوسی ایشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق نمائش میں 1,300 سے زائد سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کی کاوشوں سے پردہ اٹھایا گیا تھا۔ نمائش کی شروعات سے قبل سائن اپ کیے جانے والے 12 پروگرامات اور نمائش کے دوران ہونے والے 30 سے زائد پروگرامات کے علاوہ درجنوں تکنیکی کاوشوں کو بعد ازاں معاونت فراہم کی جائے گی۔

چین کا ایک اہم مرکزی شہر اور گوانگ ڈونگ صوبے کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے گوانگژو، جو کہ پرل ریور ڈیلٹا میں واقع ہے، دنیا میں سب سے زیادہ معاشی متحرک شہروں میں سے ایک ہے۔ درحقیقت مسلسل تین سالوں میں انعقاد سے سی آئی ای ایف وسائل کو جمع کرنے اور مختص کرنے کی مستحکم صلاحیت حاصل ہے۔ ایک فعال ماحول جہاں ٹیکنالوجی، مہارت، سرمایہ، منڈی اور ہنر عالمی دنیا سے مختلف و مطابقت رکھنے کے ساتھ یہ نمائش اس قابل ہے کہ شہر کو نئی ٹیکنالوجی اور صنعتوں کے لیے انکیوبیٹرز کے مرکز میں تبدیل کردے۔

رواں سال کے آغاز سے ذہین بین الاقوامی منصوبوں کے گروہ گوانگژو میں مقیم ہیں۔ پانچ صنعتی منصوبوں کی مالیت بالترتیب تقریباً 40 ارب یوآن (5.9 ارب امریکی ڈالر) ہے مثلاً فوکس کون اور سسکو انٹیلیجنٹ بزنس ڈسٹرکٹ، اور 25 بڑے منصوبے بشمول چین ٹیلی کام انوویشن انکیوبیشن سدرن بیس بھی شروع کیے جاچکے ہیں، جس سے گوانگژو کی ترقی کے لیے امید افزاء نقشہ بنتا ہے۔

قومی سطح کے اہم مرکزی شہر کا درجہ رکھنے والے گوانگژو نے تین اہم بین الاقوامی تزویراتی مراکز، جدت طراز سے تحریک پاتی ترقی، مرکزی قسم کے نیٹ ورک شہر، آزاد معیشت کی ترقی، عالمی وسائل مختص کرنے کی صلاحیت میں اقدامات اٹھائے اور اپنائے ہیں۔ شہر سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی میں اپنی موجودگی کو بہتر بنانے اور ان ذہین صنعتی اور منصوبوں کے ساتھ اسے ترقی کے نئے انجن میں تبدیل کرنے کے لیے پرامید ہے۔ اقتصادی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پہلی سہہ ماہی میں گوانگژو کی جی ڈی پی کی شرح 8.2 فیصد تک جاپہنچی ہے، جو کہ ملک (6.9 فیصد) اور صوبے (7.8 فیصد) سے بھی زائد ہے۔ فکسڈ اثاثہ سرمایہ کاری کی شرح، عوام الناس کے بجٹ سے آمدنی اور مجموعی درآمدات و برآمدات کی قدر میں بالترتیب 10.3 فیصد، 13.2 فیصد اور 31.9 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

گوانگژو کی بلدیہ حکومت کے تازہ ترین منصوبے کے مطابق “آئی اے بی منصوبے”، جو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، آرٹفیشل انٹیلی جنس اور بائیو-فارماسیوٹیکل انڈسٹریز کا مخفف ہے، کے نام سے شہر کی دلکشی، تخلیقی اور مسابقتی صلاحیت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ امید ہے کہ منصوبے کے تحت صنعتی حلقے، جو کہ مشترکہ مہارت، ٹیکنالوجی اور سرمائے کے ذریعے اربوں کی پیداواری قدر فراہم کرتے ہیں، اس طریقے سے تیار کیے جائیں گے کہ جس سے 2020 تک جی ڈی پی میں 2.8 ٹریلین یوآن (412 ارب امریکی ڈالر) حاصل کرنے میں شہر کی مدد کی جاسکے۔

ذریعہ: گوانگژو بلدیہ حکومت

You must be logged in to post a comment Login