لاجسٹکس شعبے کے لیے اخراجات میں کمی اور موثریت بڑھانے کی خاطر پہلی اسمارٹ لاجسٹکس ایکسپریس کا اجراء | Pakistan News Digest

لاجسٹکس شعبے کے لیے اخراجات میں کمی اور موثریت بڑھانے کی خاطر پہلی اسمارٹ لاجسٹکس ایکسپریس کا اجراء

گوانگچو ، چین، 8 جولائی 2017ء/ سنہوا-ایشیانیٹ/– 7 جولائی کو گوانگ ڈونگ آئی بوسٹ لمیٹڈ نے “پہلی اسمارٹ لاجسٹکس ایکسپریس” جاری کی، ایک منصوبہ چین کے شہری و دیہی علاقوں میں ایک اسمارٹ لاجسٹکس ایکسپریس کیبل ریل نظام کی تعمیر کے لیے وقف ہے، اس کا ہدف ملک بھر میں اسی روز اور شہروں میں ایک گھنٹے میں مال کی ترسیل اور “کیبل ریل+شٹل روبوٹس” نمونے کے ذریعے اخراجات کو نصف کرنا ہے۔

اس وقت گوانگچو پوری طاقت سے اپنے “آئی اے بی” منصوبے کو تیار کر رہا ہے، بالفاظ دیگر تزویراتی ابھرتی ہوئی صنعت جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور  حیاتی-ادویات سازی، تیزی سے جمع ہونے والے انتہائی آخری عوامل جیسا کہ ٹیکنالوجی جدت طرازی سے تحریک ہونے والی صلاحیت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ اور رسد کی سمت ہونے والی اصلاح شامل ہیں۔ اور آئی بوسٹ کی “اسمارٹ لاجسٹکس ایکسپریس” (جسے آگے “اسمارٹ ایکسپریس” کہا جائے گا) اس رحجان کی محض ایک مثال ہے۔

رواں سال مئی میں پہلی 15 کلومیٹر طویل “اسمارٹ ایکسپریس” سینان قصبے، ہاؤچو شہر، صوبہ گوانگ ڈونگ میں مکمل کی گئی تھی، جو لاجسٹکس کی صنعت  کے موجودہ رسد رخ کے لیے ایک ابتدائی حل فراہم کر رہی ہے۔ کم بلندی کی بے حرکت تاروں پر مشتمل کیبل ریلز پر منحصر ایکسپریس فضا میں ایک “ایکسپریس وے” بناتی ہے تاکہ 100 کلوگرام تک مال کے حامل بے آدمی شٹل روبوٹ لے جا سکیں۔ یہ روبوٹوں کو موڑ لینے اور راستہ بدلنے کی سہولت دیتی ہے، سامان کو اپنی منزل تک جلد پہنچانا ممکن بناتے ہیں، کم توانائی کھپت اور کم خرچ کے ساتھ۔

ٹیکنالوجیکل جدت طرازی کامیابی کی اکائی اور کسی ادارے کی تیز رفتار ترقی کی محرک ہے۔ ما یاشنگ، چیئرمین آئی بوسٹ، نے کہا کہ “اسمارٹ ایکسپریس” کی تکمیل مستقل چیلنجنگ “ناممکنات” کا ایک عمل تھا۔

تیار کردہ نرم وائرروپ راستوں اور جدید اسمارٹ ٹیکنالوجیوں کے سلسلے کے ساتھ، جس میں شٹل روبوٹ خودکار ڈرائیونگ نظام اور پس پردہ خودکار ڈجیٹل کنٹرول شامل ہیں، ایکسپریس 4 عوامل پیش کرتی ہے  – “لچک، باقاعدگی، تیز رفتاری، کم خرچ۔” اسمارٹ لاجسٹکس ایکسپریس کی موجودہ تعمیری لاگت 150,000 رینمنبی فی کلومیٹر اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے بعد 100,000 رینمنبی فی کلومیٹر ہے۔

ہوان یوشان، سابق نائب وزیر مال و اسباب اور سابق نائب چیئرمین آل چائنا فیڈریشن آف انڈسٹری اینڈ کامرس، مانتے ہیں کہ “اسمارٹ ایکسپریس” منصوبہ چین کے لاجسٹکس شعبے کی تبدیلی، ترقی اور دریافت میں ایک جدید اور عملی نمونہ بن چکا ہے اور یہ منصوبہ اسمارٹ ویئرہاؤسنگ، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، شٹل روبوٹس پیداوار وغیرہ جیسی جدت طرازیوں میں سرمایہ کاری کے نئے سلسلے کا محرک بن سکتا ہے۔

ما یاشنگ نے کہا کہ پہلی “اسمارٹ ایکسپریس” کے اجراء کے بعد آئی بوسٹ ترسیل کے اخراجات، موثریت، اسمارٹ نقل و حمل وغیرہ کے فوائد کو متواتر بہتر بنائے گا، نئے راستوں کی تعمیر اور اسمارٹ لاجسٹکس کے جال کو ملک بھر میں مسلسل بڑھائے گا اور ویئرہاؤسنگ، ادائیگی، سرمایہ کاری، بگ ڈیٹا وغیرہ میں بہتر خدمات کا اضافہ کرے گا، تاکہ “اسمارٹ ایکسپریس لاجسٹکس کے لیے ایک مکمل پلیٹ فارم” بنایا جا سکے، لاجسٹکس شعبے کے لیے مارکیٹ کے مزاج کے مطابق جدید نظام کی تیاری کو تیز تر کیا جا سکے اور عالمی مارکیٹ کے صارفین کو خدمات دی جا سکیں۔

ذریعہ: گوانگ ڈونگ آئی بوسٹ لمیٹڈ

تصویری منسلکات کے روابط:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=292741

   

Related Posts

   

You must be logged in to post a comment Login